SKU: 97642158110

دنیا کی پہلی داستان | ابن حنیف | Dunya Ki Phli Dastan | Ibn Hanif

Sale price$270.00 Regular price$300.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 11 - Jul 16

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

دنیا کی پہلی داستان | ابن حنیف | Dunya Ki Phli Dastan | Ibn Hanif( ) " ( ( ) (Rich) (Botta) ( ) 1845 (722) ) 1839 (Austin Henry Layard) 1849 (669) 626 ) " (Loftus) (George Smith) )Dr. Budge( )Hormuzd Rassam( (L. W. King) (Thompson ) (Leonard Woolley) (Henry Rawlinson) 1850 1866 (1853) 1872 () 1876 3600 3450 1500 ,,. 152

موجودہ ملک عراق کی پرانی لیکن شاندار تاریخ ہزار ہا برسوں کی وسیع اور عریض چادر پر پھیلی پڑی ہے، اور اس قابل فخر تاریخ کا تانا بانا مختلف اقوام نے بنا تھا۔ ماضی کی ان زندہ جاوید عراقی قوموں میں سو میری اکاری، بابلی، کلدانی لہ کسدی تھے، اشوری اور متانی وغیرہ شامل ہیں، ان کا لٹریچر ہم تک پہنچ چکا ہے اور اس عظیم الشان ادبی ورثے میں علم وادب کی تقریبا ہر صنف پائی جا رہی ہے۔ عراق کے اس ترکے میں دو منظوم داستانیں بہت ہی نمایاں ہیں۔ ایک تو ہے ( زیر نظر ) جلجامش کی داستان اور دوسری ہے انو ما الش" (انو ما الش کے معنی ہیں جب کہیں اوپن موخر الذکر حق اور باطل کی فیصلہ کن معرکہ آرائی اور تخلیق کائنات سے متعلق ہے اور پہلی یہ ہے۔ جو آج آپ پڑھنے جا رہے ہیں۔

دونوں میں جلجامش کی داستان زیادہ طویل بھی ہے اور اہم بھی آئیے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ دنیا کی سب سے قدیم یہ داستان ملی کیسے؟ اور اس کے کتنے نسخے یا کتبے اب تک پائے جاچکے ہیں۔

(جو ہمارے علم میں ہیں) انیسویں صدی کے اوائل کا ذکر ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ریزیڈنٹ مسٹر رچ (Rich) مقیم بغداد کو فرات کے کنارے ٹیلوں سے کچھ گلی ظروف کے ٹکڑے اور کتبے ملے۔ مگر ان کی اہمیت کوئی خاص نہ تھی۔ موصل میں فرانس کے قونصل مسٹر بوٹا (Botta) تھے ۔ اس نام آور فرانسیسی نے نینوا ( موجودہ کو جک) کے تھوڑے سے کھنڈرات برآمد کر لئے۔ لیکن کسی مقامی باشندے کی نشاندہی پر موصوف نے نینوا کی کھدائی ادھوری چھوڑ کے 1845 ء میں ٹرس آباد سے ایک اشوری با دشاه سارگن دوم (722) ق م) کامل نکال لیا 1839 ء کی بات ہے کہ انگریز نوجوان آسٹن ہنری لایارڈ (Austin Henry Layard) لنکا جاتے ہوئے عراق رک گیا۔ لا یارڈ کا یہ قیام آثار قدیمہ کی تاریخ میں سنگ میل بن کر رہ گیا ہے۔ جن دنوں مسٹر بوٹا عراق کے پرانے ٹیلوں سے ماضی کے اوراق تلاش کر رہے تھے۔ انہی دنوں لا یارڈ بھی سرگرم کار ہو گیا، اور اس نے قدیم شہر نینوا اور نمرود کھو د نکالے ۔ 1849ء میں لایارڈ موصل آگیا، اور پھر نینوا سے اس نے اشوریہ کے بادشاہ اشور بنی پال (669) تا 626 ق م) کی مشہور زمانہ لائبریری برآمد کر لی۔ اس لائبریری میں ان گنت "کتا ہیں تے اور نوشتے تھے ۔ اتنے کہ صرف برٹش میوزیم ہی میں ان میں سے آج پچیس ہزار سے بھی زیادہ تختیاں اور کتابیں موجود ہیں۔ انہی میں جلجامش کی داستان اور انو مالش بھی ہیں۔ بوٹا اور لا یارڈ کے بعد عراق میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے سلسلے میں سر ہنری رالنسن، مسٹر لوفٹس (Loftus)، جارج سمتھ (George Smith)، مسٹر ہر مز در ستام مسٹر ایل ڈبلیو گنگ ،)Dr. Budge( ڈاکٹرائی جج ، )Hormuzd Rassam( (L.W.King)، مسٹر آر تھا پیسن (Thompson ) اور آجکل کے نامور ماہر اثریات سر لیونارڈو ولی (Leonard Woolley) تھے جن کا انقال حال ہی میں ہوا ہے۔ لیونارڈو ولی نے ہی طوفان نوح کی اثری شہادت برآمد کی تھی۔ مشہور انگریز ہنری رالنسن (Henry Rawlinson) نے بغداد کی ریذیڈنسی میں بیٹھ کر ان تختیوں کو پڑھنا شروع کر دیا۔ وہ وہاں اس وقت پولیٹیکل ایجنٹ تھا۔ بغداد آنے سے قبل رالنسن 1850ء میں بے ستون کا کتبہ پڑھ کر عراق کے قدیم مسیحی رسم خط شے سے آگاہ ہو چکا تھا۔



1866ء میں جارج سمتھ رانسن کے نائب کی حیثیت سے اس کا شریک کار ہو گیا۔ اس اثناء میں (1853ء) لایارڈ کے جانشین رسام نے نینوا سے جلجامش کی داستان کے کچھ حصے پالئے ۔ مگر اس داستان کی اہمیت کہیں میں سال بعد جا کر معلوم ہو سکی ۔ 1872ء میں جارج سمتھ نے اعلان کیا کہ میں نے عراقیوں کی طوفان (نوح) سے متعلقہ کہانی دریافت کر لی ہے۔ طوفان کی یہ کہانی اصل میں داستان جلجامش کا ہی ایک باب ہے۔ جو گیارہویں سختی پر لکھی ہوئی ہے۔ مگر اس داستان کی پوری یعنی بارہ تختیاں ابھی تک نہیں ملی تھیں۔ چنانچہ سمجھ نینوا آیا اور وہاں سے ہاتی گیارہ تختیاں بھی ڈھونڈ نکالیں کہ سمتھ نے اس مہم میں بڑی سختیاں جھیلیں اور 1876 میں وہ بیماری اور فاقوں سے حلب کے مقام پر فوت ہو گیا۔

داستان کی متعد د نقول

یہ آغاز تھا اور ان بارہ تختیوں پر مشتمل مسلسل کتاب کے بعد اس داستان کی مختلف نقول ملتی رہیں۔ لیکن ان میں نسبتا سب سے مکمل اور طویل بارہ ابواب پر مشتمل یہی کتاب ہے جو اشور بنی پال کی لائبریری سے پائی گئی۔ یہ کتاب بارہ تختیوں پر لکھی ہوئی ہے۔ ہر تختی پر چھ چھ کالم تھے، اور تین تین سو سطور ۔ اس طرح کل سطریں قریباً 3600 تھیں۔ ویسے بعض اندازے یہ بھی ہیں کہ سطور تین ہزار یا 3450 تھیں۔ لیکن اب یہ تختیاں یا ابواب اتنے مسخ ہو چکے ہیں کہ صرف 1500 کے قریب سطریں باقی رہ گئی ہیں۔ کتاب ہذا میں شروع کے واقعات سے لے کر جلجامش کی اُت نا پشتم سے ملاقات اور واپسی تک کے حالات ہیں ۔ بارہ تختوں پر واقعات کی تفصیل اس طرح ہے,,.

دنیا کی پہلی داستان

مصنف | ابن حنیف

صفحات | 152

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 97642158110

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.6 ★★★★★
Based on 950 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
T
Verified Purchase
Tamara
Pawtucket, US
★★★★★ 5
Love this entire skincare line
We love this product! I have a teenage daughter who uses it and absolutely raves about it. We use the entire line, including the facial cleanser, toner, and more. Everything about these products has been great—effective, gentle, and high quality. Highly recommend!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on December 18, 2025
K
Kenji
Belleville, US
★★★★★ 4
Works great, just no different from any other pimple patch on the market
These pimple patches by Thayers are made from 100% hydrocolloid and definitely work in terms of helping speed up the pimple healing process. These pimple patches work best when your pimple is ripe enough. If you stick these pimple patches on when your pimples are not ripe enough yet, they will not do anything, and it would be a waste of a pimple sticker. You know when your pimple is ripe when it comes to a head and has that little white spot. When it's ripe, I would stick this pimple patch overnight and typically by the time I wake up, the pimple patch will have absorbed all the gunk from my pimple. You will know that it worked if you see your pimple patch turn white. Sometimes it might take an extra night for the gunk to come out. When you stick these pimple patches on, make sure your face is freshly washed without any face products or else they won't stick as well. Given what the Thayers brand is known for (natural remedies and herbal extracts), I would think that they would infuse some natural ingredients into this pimple patch to help speed up the healing process even more. But to my disappointment, they did not add any additional active ingredient to this pimple patch despite what their brand stands for so I took off a star.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on March 6, 2025
V
Verified Purchase
VS1384
Waukegan, US
★★★★★ 5
Great for my teen
We love Thayers everything. They work so great and they truly are invisible. My daughter can wear them to school and not even realize they’re on her face.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on November 22, 2025
M
Verified Purchase
Michaela Arabia
Massapequa, US
★★★★★ 5
A MUST Buy for your TEEN.
Helping my son so much - these work within a couple of hours to flatten ouchie whiteheads. My 14 years old son is so grateful! There’s 2 sizes, 22 patches, and they truly are “invisible” like the box says. These have been working so well (better than any other brand - and we’ve tried them all) and the price is the cheapest. We Love THAYERS brand now - lifetime user here for sure.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on July 27, 2025
A
Verified Purchase
Assyrian77
Chelsea, US
★★★★★ 5
It works!
These patches work great! My daughter likes them.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on December 10, 2025

recommand products